languageIcon
بحث
بحث
beforeFajronColorIcon / مقدمہ/ ( اور اس کی تعداد 3 سنتیں )
brightness_1 اسلاف میں سنت پر عمل کرنے کی چند مثالیں

نعمان بن سالم نے عمرو بن اوس سے روایت کیا ، اُن سے عنبسہ بن ابو سفیان نے بیان کیا۔ وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’جو شخص ایک دن اوررات میں بارہ رکعت (سنت نماز) ادا کرتا ہے، اس کے لیے اُن کے بدلے جنت میں ایک گھر بنا دیا جاتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم، حدیث: 1727۔)

حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے ان رکعتوں کے بارے میں سنا ہے، میں نے ان رکعتوں کو کبھی ترک نہیں کیا۔

عنبسہ کہتے ہیں: جب سے میں نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے ان رکعتوں کی روایت سنی ہے میں نے ان رکعتوں کو ترک نہیں کیا۔

عمرو بن اوس نے کہا: جب سے میں نے عنبسہ سے یہ روایت سنی ہے، میں نے ان رکعتوں کو ترک نہیں کیا۔

نعمان بن سالم کہتے ہیں: جب سے میں نے عمرو بن اوس سے یہ روایت سنی ہے، میں نے ان رکعتوں کو ترک نہیں کیا۔،

 حضرت علی رضی الله عنه فرماتے ہیں: چکی پر آٹا پیسنے سے سیدہ فاطمہ(رضی الله عنہا) کے ہاتھ میں چھالے پڑ گئے۔ کچھ قیدی (اسی اثنا میں) نبی ﷺ کے پاس آئے۔ سیدہ فاطمہ رضی الله عنہا نبیﷺ کے پاس گئیں لیکن آپ نہ ملے۔ وہ سیدہ عائشہ رضی الله عنہا سے ملیں اور انہیں خبر دی ۔ نبی ﷺ تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی الله عنہا نے آپ کو سیدہ فاطمہ رضی الله عنہا کی آمد کے متعلق بتایا ۔ اس پر نبی ﷺ ہمارے یہاں تشریف لائے۔ ہم اپنے بستروں پر آچکے تھے۔ ہم اٹھنے لگے تو نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اپنی جگہ پر رہو۔‘‘ آپ ہمارے درمیان بیٹھ گئے۔ میں نے آپ کے قدم کی ٹھنڈک اپنے سینے پر محسوس کی۔

پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا میں تم دونوں کو وہ بات نہ بتاؤں جو اُس سے بہتر ہے جس کا تم دونوں نے سوال کیا ہے؟

جب تم اپنے بستروں پر جاؤ تو چونتیس مرتبہ اللہ اکبر، تینتیس مرتبہ سبحان اللہ اور تینتیس مرتبہ الحمدللہ کہہ لیا کرو۔ یہ تم دونوں کے لیے خادم سے بہتر ہے۔‘‘، (صحیح بخاری، حدیث: 3705، وصحیح مسلم، حدیث: 2727۔)

ایک روایت میں سیدنا على رضی الله عنہ کا فرمان ہے کہ میں نے جب سے نبی ﷺ کا یہ فرمان سنا ہے، یہ وظیفہ کبھی ترک نہیں کیا ۔ کسی نے عرض کیا: صفین کی رات بھی نہیں؟

فرمایا: صفین کی رات بھی نہیں۔(صحیح بخاری، حدیث: 5362، وصحیح مسلم، حدیث: 2727۔)

یہ تو معلوم ہی ہے کہ صفین کی رات جنگ ہوئی تھی جس میں ایک فریق کے قائد حضرت علی رضى الله عنہ تھے۔ اس شدت کی رات بھی وہ اس سنت پر عمل کرنے سے غافل نہ ہوئے۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ میت کی نمازِ جنازہ پڑھ کر واپس آجایا کرتے تھے۔ وہ جنازے کے ساتھ قبر تک نہیں جاتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہی سنت ہے۔

قبر تک جنازے کے ساتھ جانے کی فضیلت سے وہ نا واقف تھے ۔ لیکن جب انہیں اس مسئلہ کے متعلق حضرت ابوہریرہ رضى الله عنہ کی روایت کا پتہ چلا تو وہ اب تک سنت کے چھوٹتے رہنے کی وجہ سے نادم ہوئے۔

حضرت ابن عمررضى الله عنه نے مٹھی میں پکڑے کنکر زمین پر دے مارے اور فرمایا: ہم نے تو بہت سے قیراط کھو دیے۔ (صحیح بخاری، حدیث: 1324، وصحیح مسلم، حدیث: 945۔)

امام نووی رحمہ الله نے اس روایت کے تحت لکھا ہے:

معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کو جب کسی نیکی کا پتہ چلتا تو وہ بڑے شوق سے اُس کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔ اور اگر وہ نیکی کرنے سے محروم رہتے تو بڑے افسوس کا اظہار کرتے تھے۔ (ديكهئے المنهاج 7/15)

brightness_1 اتباعِ سنت کے چند نتائج و ثمرات

محترم بهائی : إتباع سنت كے بہت سے ثمرات ہيں.

1/ محبت کے درجے پر پہنچنا۔

بندہ نوافل (سنت نماز) کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کر لیتا ہے۔ یوں وہ حب الٰہی کے درجے پر پہنچ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔

امام ابن قیم نےلکھا ہے: اللہ تعالیٰ تم سے تبھی محبت کرے گا جب تم ظاہر و باطن سے اُس کے حبیب کی اتباع کروگے، اُسے سچا جانو گے ، اُس کے احکامات کی تعمیل کروگے ، اُس کی دعوت قبول کرو گے، دل سے اُسے دوسروں پر ترجیح دو گے ، دوسرے کا فیصلہ چھوڑ کر اُس کے فیصلے پر آؤ گے، تمام لوگوں کی محبت سے کنارہ کش ہو کر اُس کی محبت اپناؤ گے اور دوسرے کی اطاعت سے پاؤں کھینچ کر اُس کی اطاعت کا دم بھروگے۔ اگر یہ نہیں کرسکتے تو مشکل میں مت پڑو اور جہاں سے آئے ہو لوٹ جاؤ۔ نور تلاش کرو کیونکہ تم کسی شے پر نہیں ہو۔ (مدارج السالکین: 3/37)

2/ اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہونا:

جب بندے کو اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بھلائی کی توفیق دیتا ہے ۔ تب بندہ وہی کام کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ اس لیے کہ جب وہ درجہ محبت پر پہنچ جاتا ہے تو اُسے معیت الٰہی بھی نصیب ہو جاتی ہے۔

3/ مستجاب الدعوات بن جانا:

اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل ہونے سے آدمی کو یہ فضیلت بھی ملتی ہے کہ اُس کی دعائیں شرفِ قبولیت پاتی ہیں۔ وہ اس طرح کہ جو آدمی نوافل کے ساتھ تقربِ الٰہی حاصل کرتا ہے وہ محبت الٰہی پالیتا ہے۔ اور جب وہ محبت الٰہی پالیتا ہے تو اُسے یہ درجہ بھی مِل جاتا ہے کہ اُس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور وہ مستجاب الدعوات بن جاتا ہے۔

اتباعِ سنت کےان تینوں ثمرات کے دلائل :

ابوہریرہ رضى الله عنہ سے حدیث قدسی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

جس نے میرے کسی دوست سے عداوت کی اُس کے خلاف میرا اعلان جنگ ہے۔ اور میرا بندہ جس شے سے میرا قرب پاتا ہے اس میں مجھے سب سے زیادہ وہ بات پسند ہے جو میں نے اُس پر فرض قرار دی ہے۔ اور میرا بندہ نوافل سے میرے قریب آتا رہتا ہے یہانتک کہ میں اُس سے محبت کرنے لگتا ہوں ۔ جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اُس کی سماعت بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اُس کی بصارت بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے ۔ اگر وہ مجھ سے (کچھ) مانگے تو میں اُسے ضرور عطا کرتا ہوں ۔ اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں اسے ضرور پناہ دیتا ہوں ۔ اور میں کسی بات کو انجام دینے کے لیے اتنا تردد نہیں کرتا جتنا تردد میں مومن کی جان کے متعلق کرتا ہوں کہ وہ موت کو ناپسند کرتا ہے ۔ اور میں اسے تکلیف دینا ناپسند کرتا ہوں۔‘‘ (صحیح بخاری، حدیث: 6502۔)

4/ فرائض کے نقصان کا تدارک:

 فرائض میں جو کوتاہی سرزد ہوتی ہے. نوافل (سنت نماز) سے اُس کے نقصان کا تدارک ہوجاتا ہے ۔

اس پردليل یہ حدیث ہے : حضرت ابوہریرہ رضى الله عنه بيان كرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’روزِ قیامت بندے کے اعمال میں سب سے پہلے نماز کا حساب ہوگا ۔ نماز ٹھیک رہی تو وہ فلاح پاگیا اور کامیاب ہوا ۔ نماز خراب ہوئی تو وہ خائب و خاسر ہوا ۔ فرائض میں اگر کوئی کمی کوتاہی رہ گئی تو رب تعالیٰ فرمائے گا: دیکھو، میرے بندے کا کوئی نفل بھی ہے ۔ یوں فرائض کی کمی کوتاہی نفل سے پوری کر دی جائے گی، پھر بقیہ تمام اعمال کا حساب بھی اسی اصول پر ہوگا۔‘‘ (مسند أحمد: 290/2، وسنن أبی داود، حدیث: 864، وجامع ترمذی، حدیث: 413۔)