languageIcon
بحث
بحث
beforeFajronColorIcon مقررہ اوقات کی سنتیں/ وقت فجر ( اور اس کی تعداد 2 ابواب )

1 کئی بار

brightness_1 ’أَمْسَیْنَا وَ أَمْسَی الْمُلْکُ لِلّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَاشَرِیکَ لَہُ، اَللّٰھُمَّ! إِنِّي أَسْئَلُکَ مِنْ خَیْرِ ھٰذِہِ اللَّیْلَۃِ وَخَیْرِ مَا فِیھَا، وَأَعُوذُبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّمَا فِیھَا، اَللّٰھُمَّ! إِنِّي أَعُوذُبِکَ مِنَ الْکَسَلِ، وَالْھَرَمِ، وَسُوئِ الْکِبَرِ، وَفِتْنَۃِ الدُّنْیَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ‘ ’’شام کی ہم نے اور شام کی سارے ملک نے جو اللہ کا ہے۔ اور سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ یکتا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں۔ اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس رات کی خیر کا اور اُس کی خیر کا جو اس (رات) میں ہے۔ اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس کے شر سے اور اُس کے شر سے جو اس (رات) میں ہے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں کاہلی اور سخت بڑھاپے اور بڑھاپے کی اذیت (ناگواری اور برائی) اور فتنۂ دنیا اور عذاب قبر سے۔‘‘ صبح کے وقت أَمْسَیْنَا وَ أَمْسَی کی بجائے یہ پڑھنا چاہیے: ’أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْکُ لِلّٰہِ …‘ اور مِنْ خَیْرِ ھٰذِہِ اللَّیْلَۃِکی بجائے یہ پڑھنا چاہیے: ’أَسْئَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا فِي ھٰذَا الْیَوْمِ وَخَیْرِ مَا بَعْدَہُ، وَأَعُوذُبِکَ مِنْ شَرِّمَا فِي ھٰذَا الْیَوْمِ وَشَرِّمَا بَعْدَہُ…‘ (صحیح مسلم، حدیث: 2723۔) .......

1 کئی بار

brightness_1 ’اَللّٰھُمَّ! إِنِّي أَسْئَلُکَ الْعَافِیَۃَ فِي الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، اللّٰھُمَّ! إِنِّي أَسْئَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِي دِینِي وَدُنْیَايَ وَأَھْلِي وَمَا لِي، اَللّٰھُمَّ! اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَّوعَاتِي، اَللّٰھُمَّ! احْفَظْنِي مِنْ بَینِ یَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي وَعَنْ یَّمِینِي وَعَنْ شِمَالِي وَمِنْ فَوْقِي وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِکَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي‘ ’’اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت کی عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں معافی اور عافیت کا، میرے دین میں، میری دنیا میں، میرے اہل خانہ میں اور میرے مال میں۔ اے اللہ! میرے عیبوں پر پردہ ڈال دے اور میری گھبراہٹوں کو امن دے۔ اے اللہ! میری حفاظت فرما میرے سامنے سے، میرے پیچھے سے، میرے دائیں سے، میرے بائیں سے اور میرے اوپر سے۔ اور میں تیری عظمت کی پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ اپنے نیچے سے ناگہاں ہلاک کیا جاؤں۔‘‘ (مسند أحمد: 25/2، وسنن أبي داود، حدیث: 5074۔ ) .......