languageIcon
بحث
بحث
brightness_1 اعضائے وضو تین مرتبہ دھونا

اعضائے وضو کا پہلی مرتبہ دھونا واجب ہے۔ دوسری اور تیسری مرتبہ دھونا سنت ہے۔ تین مرتبہ سے زیادہ نہیں دھونا چاہیے۔

اس کی دلیل ـ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی ﷺ نے ایک ایک مرتبہ وضو کیا۔ (صحیح بخاری ، حدیث: 157۔)

حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: نبی ﷺ نے دو دو مرتبہ وضو کیا۔ (صحیح بخاری ، حدیث: 158۔)

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے تین تین مرتبہ وضو کیا۔ (صحیح بخاری ، حدیث: 159۔)

افضل یہ ہے کہ ان تینوں روایتوں پر عمل کیا جائے۔ کبھی ایک ایک دفعہ، کبھی دو دو دفعہ اور کبھی تین تین دفعہ اعضائے وضو دھوئے جائیں۔

مختلف اعضائے وضو کو مختلف تعداد میں دھونا بھی درست ہے۔

مثال کے طور پر چہرہ تین دفعہ دھونا، ہاتھوں کو دو مرتبہ دھونا اور قدموں کو ایک مرتبہ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ ہی کی ایک اور روایت میں ہے، (،زادالمعاد: 192/1۔)

تاہم اکثر اوقات اعضائے وضو تین تین دفعہ دھونے چاہئیں کیونکہ نبی کریم ﷺ کی ہدایت یہی ہے۔

brightness_1 وضو کے بعد کی دعا

حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ  نے فرمایا: ’’تم میں سے جو کوئی وضو کرتا ہے اور خوب اچھی طرح پورا وضو کرتا ہے، پھر وہ کہتا ہے: أَشْهَدُ أَنَّ لاَ إِلهَ أَلاَّ اللّهُ , وَأَنَّ مُحمَّداً عَبْدُ اللّهِ وَرَسُولُهُ ـ ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد  اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔‘‘

 تو اُس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جائیں گے کہ وہ جس میں سے چاہے داخل ہو جائے۔‘ (صحیح مسلم، حدیث: 234۔)

یا پھر وہ دعا پڑھی جائے جو حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت میں آئی ہے: ’ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ, أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إلاَّ أَنْتَ, أَسْتَغْفِرُكَ وأَتُوبُ إلَيْكَ’’تو پاک ہے، اے اللہ،اور تیری ہی تعریف ہے ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔‘‘

ان کلمات پر مہر لگا کر انہیں عرش تلے بلند کیا جاتا ہے۔ یہ مہر قیامت تک نہیں اتاری جائے گی۔ (عمل الیوم واللیلۃ للنسائی، ص: 147، والمستدرک للحاکم: 752/1۔)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس روایت کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔  (نتائج الأفکار: 246/1۔)

انہوں نے مزید بیان کیا کہ یہ روایت اگرچہ مرفوعاً صحیح نہیں ، تاہم یہ موقوف ہے۔ لیکن اس میں کچھ مضائقہ نہیں کیونکہ اس روایت کا حکم مرفوع ہی کا ہے، اس لیے کہ یہ ایسا مسئلہ ہے جس میں ذاتی رائے کو کچھ دخل نہیں۔

(مطلب یہ کہ صحابی خود اپنے اجتہاد سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں دعا پڑھنی چاہیے۔ ظاہر سی بات ہے کہ انہوں نے یہ دعا رسول اللہ  ہی سے سنی ہوگی)۔