languageIcon
بحث
بحث
beforeFajronColorIcon مقررہ اوقات کی سنتیں/ وقت مغرب / ( اور اس کی تعداد 4 سنتیں )
brightness_1 نمازِ مغرب سے پہلے دو رکعت نماز

حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’نمازِ مغرب سے پہلے نماز پڑھو۔‘‘ تیسری مرتبہ فرمایا: ’’یہ اُس کے لیے ہے جو پڑھنا چاہے۔‘‘کیونکہ آپ اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ لوگ اسے سنت (معمول) بنا لیں۔ (صحیح بخاری، حدیث: 7368۔)

اذان اور اقامت کے درمیان بھی دو رکعت پڑھنا سنت ہے:

یہ دونوں رکعتیں مؤکدہ ہوں، جیسے فجر اور ظہر کی مؤکدہ سنتیں ، یا مؤکدہ نہ ہوں، ایک ہی بات ہے۔ دونوں صورتوں میں اِن دونوں رکعتوں کا پڑھنا سنت ہے۔ مؤکدہ سنتیں پڑھنے کی صورت میں ان دونوں رکعتوں کا الگ سے پڑھنا ضروری نہیں۔

کوئی شخص مسجد میں بیٹھا ہو اور عصر کی یا عشاء کی اذان ہو جائے تو سنت یہ ہے کہ وہ اٹھے اور دو رکعتیں پڑھے۔

اس کی دلیل: حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی رضی الله عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’ہر دو اذانوں (اذان اور اقامت) کے درمیان نماز ہے۔‘‘ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ تیسری مرتبہ یہ بھی فرمایا: ’’یہ اُس کے لیے ہے جو پڑھنا چاہے۔‘‘ (صحیح بخاری، حدیث: 624، وصحیح مسلم، حدیث: 838۔)

اس میں کوئی شک نہیں کہ مغرب سے پہلے یا ہر دو اذان (اذان اور اقامت) کے درمیان پڑھی جانے والی دو رکعتیں سنت مؤکدہ نہیں۔ یوں انہیں کبھی ترک بھی کیا جاسکتا ہے کیونکہ نبی کریمﷺ نے تیسری مرتبہ یہ بھی فرمایا تھا کہ یہ اُس کے لیے ہے جو پڑھنا چاہے۔ تاکہ لوگ اس نماز کو مؤکدہ کی طرح معمول نہ بنالیں۔